0

کامسیٹس یونیورسٹی ملازمین کی غیر قانونی تنزلی کیخلاف عدالت سے حکم امتناعی جاری

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کامسیٹس یونیوررسٹی کے 68ملازمین کی غیر قانونی تنزلی کے خلاف حکم امتناعی جاری کردیا۔ رٹ پٹیشن 355 پر دلائل دیتے ہوئے یونیورسٹی ملازمین کے وکیل شعیب شاہین نے فاضل جج میاں گل حسن اورنگزیب سے حکم امتناعی جاری کرنے کی استدعا کی جسے فاضل جج نے منظور کر لیا۔ کامسیٹس یونیورسٹی کے ملازمین نے نئی انتظامیہ کے زیر انتظام سینیٹ کمیٹی میٹنگ کے بیشتر فیصلوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا۔ کامسیٹس یونیورسٹی کے سینیٹ کی حالیہ کارروائی میں کامسیٹس یونیورسٹی کے ساٹھ سے زائد ملازمین کی سال 2018میں کی گئی ترقی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے، ملازمین کو پرانے اسکیلز پر واپس بھیجنے اور تنزلی کرنے کی سفارش کو منظور کیا گیا تھا۔سینیٹ میں دادرسی نہ ہونے کی صورت میں ملازمین نے غیر قانونی تنزلی کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ اس کیس کی سماعت کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے کامسیٹس یونیورسٹی انتظامیہ کو ملازمین کی تنزلی سے متعلق تمام اقدامات سے روک دیا۔ ذرائع کے مطابق نئی انتظامیہ کے غیر سنجیدہ رویے، ذاتی خلفشار اور انتقامی کارروائیاں کرنے کے مذموم مقاصد نے کامسیٹس یونیورسٹی کو مزید انتظامی اور مالی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ یاد رہے کامسیٹس یونیورسٹی کے ملازمین نے عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے یہ قانونی نقطہ اٹھایا تھا کہ سینیٹ کی سب کمیٹی، جس نے ملازمین کی تنزلی کی سفارشات مرتب کیں، وہ کامسیٹس ایکٹ 2018کے تحت غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔یہاں یہ بات انتہائی اہم ہے کہ کامسیٹس یونیورسٹی کے ملازمین نے عدالت میں درخواست دینے سے قبل صدر پاکستان، جو کہ کامسیٹس یونیورسٹی سینیٹ کے سربراہ ہیں، کو اس غیر آئینی اقدام کے متعلق تحریری درخواست بھی دی تھی۔ اس کے علاوہ کامسیٹس یونیورسٹی کے ملازمین نے سینیٹ کے دیگر اراکین کو بھی انتظامیہ کے رویے سے متعلق آگاہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر بے سود۔ امید کی جاتی ہے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم امتناعی کے بعد کامسیٹس یونیورسٹی کی انتظامیہ اپنے ہی ملازمین کو ان کے بنیادی حق سے محروم نہیں کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں