0

پی ٹی ڈی سی کے 450 ملازم نوکریوں سے برطرف

وفاقی حکومت نے پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی)کے زیرانتظام چلنے والے راولپنڈی،خیبرپختونخوااورگلگت بلتستان سمیت شمالی علاقوں میں تمام ہوٹل اورموٹل بندکردیئے اور ان کے ملازمین کوبرطرف کردیاجن کی تعداد450ہے۔ برطرفی کافیصلہ 17جون کوبورڈکے اجلاس میں کیاگیا۔واضح رہیوزیراعظم کے مشیربرائے اوورسیزاورسیاحت زلفی بخاری بورڈکے چیئرمین ہیں۔ یکم جولائی 2020کوجاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق ملازمین کوآگاہ کیاگیاہے کہ ان کو پی ٹی ڈی سی کی ملازمت سے فوری طورپر سبکدوش کردیاگیاہے اوروہ اپنے بقایاجات کی وصولی کیلئے کمپنی کے ہیڈآفس میں کلیئرنس کاسرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعدرابطہ کرسکتے ہیں۔ واضح رہے ان علاقوں میں پی ٹی ڈی سی کے زیراہتمام 36ہوٹل اورموٹل چل رہے تھے جن میں سے کے پی میں 17،گلگت میں 10موٹل بھی شامل تھے۔ اس سلسلے میں جب پی ٹی ڈی سی کے ترجمان بابرملک سے رابطہ کیاگیاتوانہوں نے خبرکی تصدیق یاتردید سے انکارکیااورنوٹیفکیشن دکھانے کامطالبہ کیاجس پران کونوٹیفکیشن کی کاپی بھیج دی گئی توانہوں نے پھر فون ہی اٹینڈنہ کیا۔ کارپوریشن کے برطرف ملازمین کے مطابق حکومت نے یہ بہانا تراشاہے کہ کوروناوباکے باعث تمام ہوٹل اورموٹل بندہیں اس لئے کارپوریشن کوشدیدخسارے کاسامناہے اورکارپوریشن مزیدخسارہ برداشت نہیں کرسکتی اس لئے ان کوبرطرف کیاجارہاہے۔ واضح رہے 18ویں ترمیم کی منظوری کے بعدپی ٹی ڈی سی کے اثاثہ جات اصولی طورپرحکومتوں کومنتقل ہوناتھے اورصوبائی حکومتوں کے باربارمطالبے کے باوجودیہ ہوٹل اورموٹل صوبائی حکومتوں کے حوالے نہیں کئے گئے۔ صوبائی حکومتیں یہ یقین دہانی کراتی رہی ہیں کہ وہ ملازمین، اثاثہ جات اورواجبات سمیت پی ٹی ڈی سی کاآپریشن اپنے ذمے لینے کیلئے تیارہیں۔ یادرہے راولپنڈی میں مال روڈپرواقع فلیش مین ہوٹل بھی کارپوریشن کے زیرانتظام چل رہاہے جبکہ 18ویں ترمیم کے بعدیہ پنجاب حکومت کی ملکیت بن چکاہے لیکن یہ خیال ہے کہ وفاق کی جانب سے اس ہوٹل کوبیچنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ بندکئے گئے ہوٹلوں اورموٹلوں کوبھی نجی شعبے کے حوالے کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں اورخیال ہے کہ یہ نجی شعبے کولیزپردیئے جائیں گے۔ وفاق میں اس سے پہلے ہی سکیل 1سے 16کی ہزاروں ملازمتیں ختم کی جارہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں