0

مرکزی قیادت کو سردار مہتاب احمد خان،کے خلاف ایک ریفرنس تیار کرکے بھیجا جائیگا تا کہ ان کا مرکزی نائب صدر کا پارٹی عہدہ ختم کیا جائے

ایبٹ آباد., پاکستان مسلم لیگ ن صوبہ خیبر پختونخواہ کے جنرل سیکرٹری MNAمرتضیٰ جاوید عباسی نے گزشتہ روز سابق وزیر اعلیٰ و گورنر سردار مہتاب احمد خان کاپبلک ڈے خطاب پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن خیبر پختونخواہ کی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ سردار مہتاب احمد خان کو پارٹی تقسیم کرنے،آئین و ڈسپلن کی خلاف ورزی،آئین سے بغاوت پر شوکاز نوٹس جاری کر کے مرکزی قیادت کو سردار مہتاب احمد خان،کے خلاف ایک ریفرنس تیار کرکے بھیجا جائیگا تا کہ ان کا مرکزی نائب صدر کا پارٹی عہدہ ختم کیا جائے اس سے قبل مسلم لیگ ن کے آئین کی خلاف ورزی پر نام نہاد و غیر آئینی مسلم لیگ کے ضلعی صدر ایوب خان آفریدی کا مسلم لیگ ن کے پی کے کا سینئر نائب صدر کا عہدہ ختم کر دیا ہے اور نائب صدر مسلم لیگ ن کے پی کے سید عابد شاہ ترمذی کا بھی پارٹی عہدہ ختم کر کے بنیادی رکنیت معطل کرنے کے لئے شوکااز نوٹس جاری کیا جائیگا۔ جو پندرہ دن کے اند اندر نوٹس کا جواب دینگے ان کے علاوہ جو پارٹی ورکرز پارٹی کو تقسیم کرنے اور آئین و ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے اور صوبائی قیادت کے خلاف نازیبا بیان بازی ویڈیو بیان دینے والوں کے خلاف بھی کاروائی عمل میں لائی جائیگی۔تفصیلات کے مطابق صوبائی جنرل سیکرٹری مرتضیٰ جاوید عباسی نے مزید کہا ہے کہ الیکشن 2018میں سردار مہتاب احمد خان نے پارٹی ٹکٹ واپس کر کے پارٹی کو نقصان پہنچایا اور اپنے بھائی کو پی کے 36 پر چیپ کے نشان پر آزاد حیثیت سے الیکشن لڑوایا یہ بھی آئین کی خلاف ورزی ہے پھر انہوں نے مسلم لیگ ن ضلع ایبٹ آباد کے خلاف غیر آئینی مسلم لیگ ن کا اعلان کیا یہ بھی پارٹی آئین و ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے،پارٹی کے مرکزی و صوبائی قائدین نے ان کی غلطیوں کو نظر انداز کیا اور بڑے صبر وتحمل و استقامت سے برداشت کیا لیکن اب تو انہوں نے حد کر دی ہے کہ ہم مسلم لیگ ن آئین کو نہیں مانتے یہ آئین کے خلاف بغاوت ہے اور میاں محمد نواز شریف پر عد م اعتماد ہے ہم ان سے یہ توقع نہیں رکھتے تھے یاتو وہ کسی بوکھلاہٹ کا شکار ہیں یا کسی اور کے ایجنڈے پر پارٹی تقسیم کرنے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں مرکزی نائب صدر ہونے کے نتیجہ میں مسلم لیگ ن ضلع ایبٹ آباد کو برطرفی کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ ہم پوچھ سکتے ہیں کہ کس آئین کے تحت برطرف کیا،کونسے آئین اختیارات مرکزی نائب صدر کے پاس ہیں ان تمام باتوں کو مد نظر رکھ کر ہم نے شوکا ز نوٹس دینے کا فیصلہ کیا اورمرکزی قیادت کو ریفرنس بھی تیار کر کے بھیجا جائیگا اب بھی وقت ہے کہ پارٹی آئین کو تسلیم کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں