0

غریب آدمی کیا چاہتا ہے

تحریر : شمعروز شمس عباسی


عمران خان دو اہم وجوہات کی بنا پر اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوئے ۔ایک تو یہ کہ لوگ زرداری اور شریفوں کی حکومت پچھلے پینتیس چالیس سال سے دیکھ چکے تھے لوگوں کو ان کے وعدوں پر کوئی یقین نہیں تھا ۔بالآخر عمران خان کی صورت میں انہیں تیسرا آپشن مل گیا ۔ دوسری اور اہم وجہ یہ تھی کہ عمران خان نے لوگوں کو محرومیوں سے نکالنے کا احساس دلایا ۔ بے روزگاری کے خاتمے ، انصاف کی فراہمی ،مافیا سے چھٹکارا اور آزادی اظہار رائے کا پورا یقین دلایا ۔

اب پاکستان تحریک انصاف کو گورنمنٹ میں آئے ہوئے دو سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے ۔عمران خان کے کنٹینر سے کیے گئے بلند و بانگ دعوے اب ان کے لئے درد سر بن رہے ہیں ۔انصاف کی فراہمی، بےروزگاری کا مکمل خاتمہ،پچاس لاکھ گھر ،ایک کروڑ نوکریاں ،بیرون ملک سے لوگوں کا روزگار کے سلسلے میں پاکستان آنا اب ایک دیوانے کا خواب بن چکا ہے ۔ملکی معیشت کو دیکھ کر ماضی میں بھی یہ محسوس کیا جا سکتا تھا کہ نوے دن یا ایک سال میں یہ دعوے مکمل طور پر پورے نہیں ہو سکتے لیکن اب یہ محسوس کیا جا سکتا ہے کہ حکومتی نالائقیوں کی وجہ سے وعدے پورا کرنا تو دور کی بات ملک کسی خاص مثبت سمت کی طرف بھی نہیں جا رہا ۔

ایک دیہاڑی دار مزدور کو اس بات سے کیا غرض کہ اسلام آباد کے ایوانوں میں کیا ہو رہا ہے ۔جمہوریت پروان چڑھ رہی ہے یا خطرے سے دوچار ہے ۔ اس کو غرض ہے تو اپنے کام سے کہ اگر کام ملے گا تو اپنے بچوں کو روٹی کھلائے گا ۔اگر بدقسمتی سے اور عموما ایسا ہوتا بھی ہے کہ جس دن کام نہیں ملتا تو اس کا خاندان بھوکے پیٹ ہی سو جاتا ہے ۔ صبح سویرے گھر سے نکلتا ہے اور آدھی رات کو واپس لوٹتا ہے ۔اس بیچارے کو تو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ جس شہر میں وہ زندگی بسر کر رہا ہے وہاں کیا ہو رہا ہے ۔حکومتی پریس کانفرنسز ہو یا اپوزیشن رہنماؤں کی تقریریں اس کے لیے یہ سب بے معنی باتیں ھوتی ھیں ۔

غریب آدمی بڑی بڑی آسائشیں نہیں مانگتا بلکہ جینے کے لیے صرف بنیادی سہولیات کا مطالبہ کرتا ہے اور یہ مطالبات پورے کرنا حکومت کی عین ذمہ داری بھی ہے ۔ مہنگائی میں اس قدر اضافہ ہوچکا ہے کہ غریب آدمی تین وقت کی روٹی نہیں کھا سکتا ۔اگر تعلیم کی بات کی جائے تو جس طرح کلاس ڈیفرنس ہمارے معاشرے میں پایا جاتا ہے اسی طرح کی تعلیم بھی انہیں دی جاتی ہے ۔ صحت کی سہولیات کی کیا بات کی جائے غریب آدمی کے لیے اب بیماری موت جیسی ہے کیوں کہ حالیہ حکومت نے میڈیسن کی قیمتوں میں 300 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے ۔جس کی وجہ سے دوائیاں اب غریب آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں ۔کرونا اور تازہ ترین معاشی حالات کی وجہ سے بے روزگاری میں دگنا اضافہ ہوا ہے ۔

ہمارا ملک چونکہ ایک زرعی ملک ہے ۔ماضی میں ملکی معیشت کا انحصار ایک بڑی حد تک اس شعبے پر تھا لیکن حالیا حکومت کی نالائقی کی وجہ سے غریب آدمی نقصان اٹھا رہا ہے ۔آٹا چوروں کو ابھی تک سزا نہیں دی گئی ایک من آٹا پیداوار کے مطابق چودہ سو روپے میں ملنا تھا لیکن بغیر کوئی پالیسی بنائے اس کو ملک سے باہر بھیجا گیا پھر اب وہی آٹا دوسرے ملک سے منگوا کر پچیس سو سے تین ہزار میں فروخت کیا جا رہا ہے ۔اسی طرح چینی پر نوٹس لیا گیا تو اس کی قیمت میں بھی دگنا اضافہ ہوا جب کہ ذمہ داران کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے ۔ اشیائے خورد ونوش میں ہر ہفتے ایک وسیع پیمانے پر اضافہ ہوتا ہے دو روز قبل تیل، گئی ،سبزیوں اور دالوں کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کیا گیا۔ ہر شعبے میں تنزلی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔

اب خالی تقریروں سے کیا ہونا عوام کو تو عملی کام چاہیے جس گھر کا خرچہ پہلے پانچ سے دس ہزار تھا اب وہ پچیس سے تیس ہزار ہو چکا ہے ۔اگر ایک شخص کی کمائی ہی پندرہ سے بیس ہزار ہوں تو وہ اپنے گھر کو کیسے چلائے گا ۔اس قوم کا بوجھ اب وزیراعظم صاحب کے کندھوں پر ہے ۔ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ دیگر قومی مجرموں کو بھی بے نقاب کیا جائے ۔ حکومت سیاسی مخالفین کو جیل میں ڈالے یا آزادانہ چھوڑ دے عام آدمی کو اس سے کوئی غرض نہیں بلکہ غریب آدمی کو تو تین وقت کی روٹی،پیننے کے لئے کچھ گز کپڑا ،اور رہنے کے لئے ایک چھت درکار ہے جس کی فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں