0

اسپیشل بچوں کو سوسائٹی میں شامل کریں بس تھوڑی سی جگہ چاہیے آپ سب کے دلوں میں

بس تھوڑی سی جگہ چاہیے ۔۔۔۔۔آپ سب کے دلوں میں ۔۔۔۔۔ (تحریر سمینہ کوثر راجپوت) ہماری دنیا آپ کی دنیا سے الگ ہےہماری دنیا میں دھوکا فراڈ چالاکیاں اور جھوٹ نہیں ہماری دنیا میں دنیا داری بھی نہیں۔ ہم کہیں باہر جائیں تو کسی کی ٹیبل پہ فرائیز آجائیں تو ہم بلا تکلف جا کے لے لیتے ہیں۔ہمیں کسی کا ہینڈ بیگ پسند آجائے تو چھو لیتے ہیںہمیں آنٹیوں کی ہیئر ہائی لائٹس پسند ہیںہمیں انکلوں کی گاڑی کی چابیاں پسند ہیں عینک پسند ہےاور آج ہمیں ماما کی پونی پسند آگئی ہے۔ آپ لوگ ہمیں آٹیسٹیک کہتے ہیں.کبھی اور نہ جانے کن کن ناموں سے پکار تے ہیں ۔کہہ لیں مگر ہمیں برا نہ سمجھیں۔ نہ ہی ہمارے ماما بابا کو کہیں کے ہمیں گھر میں بند رکھیں کیونکہ یہ دنیا اللہ نے ہمارے لئے بھی بنائی ہے۔میری ماما کہتی ہیں میں جنت کی چابی ہوں۔ آپ سے کہنا چاہتا ہوں آپ بھی اپنے بچوں کو ہمارے بارے میں بتائیں۔ ہم پاگل نہیں ہیں ہم پہ نہ ہنسا کریں۔ ہم جن نہیں ہیں ہم سے نہ ڈرا کریں۔ جب میرے جیسے بچے دیکھیں تو مسکرا دیا کریں۔ کبھی کبھی ہمیں کوئی جھولا پسند آجائے تو ہم باری کا انتظار نہیں کر پاتے ہم اس بات کو اکثر سمجھ نہیں پاتے ہمیں معاف کردیا کریں۔ کبھی ہم شور سن کے چیخ پڑتے ہیں ہمیں سنبھالنا اور سمجھانا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن آپ اگر ہمارے لئے تھوڑی سی قربانی دیں گے تو اللہ آپ کو بڑا اجر دے گا۔ ہمیں کوئی ایسی بیماری نہیں کے ساتھ کھیلنے یا پڑھنے سے لگ جائے گی۔ ہمارا دماغ مختلف سوچتا ہے لیکن دل آپ جیسا ہی ہے۔ ہمیں لالی پاپ چاکلیٹ چپس جھولے اور پیار اچھا لگتا ہے۔ پیار کے تو پیسے بھی نہیں ہوتے۔ ماما کہتی ہیں ہم اللہ کے پیارے ہیں تو ہمیں لگتا ہے آپ ہمیں پیار کریں گے تو اللہ بھی آپکو پیار کریں گے۔ پیار کیسے ہوتا ہے؟ مسکرا کے دیکھ کے، مذاق نہ اڑا کے، جھولے پہ جگہ دے کے .مجھے مسجد جانا بہت پسند ہے ۔میں چاہتا ہوں میں بھی آپ سب کی طرح مسجد جاؤں لیکن وہاں بچے اور بڑھے بھی مجھے چھیڑتے ہیں ۔مجھے رمضان میں ترا ویح کا بہت شوق ہے لیکن قاری صاحب اور دیگر نمازی کہتے ہیں ہماری نماز خراب ہوتی ہے اور میری ماما کو بولتے ہیں اسکو گھر میں رکھیں ۔مسجد نہ بهیجا کریں ۔میں واک کے لیے جاتا ھوں تو دور تک پاگل اور گلڑ کی آوازیں میرا پیچھا کرتی ہیں میری ماما کہتی ہیں آپ آجاؤ پاگل آپ نہیں پاگل تو یہ لوگ ہیں یہ معاشرہ ہے ۔میں تھوڑا مختلف ضرور ھوں لیکن میرے احساسات آپ سب کی طرح ہی ہیں ۔میں نارمل بچوں کے اسکول جانا چاہتا تھااور داخل بھی ہوا کیوں کہ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ میں نارمل بچوں کے ساتھ زیادہ اچھا سیکھوں گا ۔لیکن یہاں بھی بچے مجھے تنگ کرتے اور ان کے والدین کو میرا ان کے بچوں کے ساتھ پڑھنا اور کھیلنا پسند نہیں تھا ۔ میں ایک داؤن سینڈروم بچہ ھوں ۔بہت دوستانہ رویہ ہوتا ہے میرا ۔۔۔پھر ماما نے میرے جیسے بہت سے بچوں کے لیےاپنا اسکول بنا لیا جہاں ہم سب ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں اور کوئی مجھے یا کسی بچے کو تنگ نہیں کرتا ۔میں پارک جانا چاہتا ہوں پر کبھی وہاں لوگ مجھ پر ہنستے ہیں اور کبھی مجھے جھولے اور سلائڈ پر جگہ نہیں ملتی ۔میری باری ہی نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔۔۔میں چلاتا ھوں تو سب مجھے پاگل سمجھتے ہیں ۔۔۔۔میری ماما میرے لیے اسکول تو بنا سکتی ہیں لیکن مسجد اور پارک نہیں ۔۔۔۔میری ماما نے مجھے تو سب سکھا دیا لیکن وہ میرے ارد گرد کے لوگوں کو نہیں سمجھا سکتیں ۔۔۔۔کہ میں پاگل نہیں بس تھوڑا مختلف ھوں ۔آپ سب بس تھوڑی سی جگہ اپنے دلوں میں دے دیں تو ہم بھی زندگی سے باقی سب بچوں کی طرح لطف اندوز ھو سکیں ۔بس تھوڑی سی جگہ ۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں