0

آصف عرفان اساتذہ برادری کے لیئے ایک ناسورہے,سرپرست اعلی شفیع خان

پکھل۔خود کو اپٹاحقیقی کا بانی ظاہر کرنے والا ھم کویہ بتائے کس کے اشارے پر اپٹاحقیقی میں آیاتھا۔دودرجن بھر اساتذہ کو جمع نہ کرسکتاھو۔وہ اپنے منہ میاں مٹھوں بننے کی کوشش نہ کرے۔ان خیالات کااظہاراپٹاحقیقی ضلع مانسہرہ کے سرپرست اعلی شفیع خان صدر فیضان جہانگیری جنرل سیکرٹری شاھد دلاورچیئرمین بشیر یوسفزئی۔وائس چیئرمین سردارافتخار۔سیکرٹری اطلاعات بشیر جہانگیری اورفنانس سیکرٹری بدر منیرنے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔انھوں نے کہا کہ آصف عرفان کاسوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپٹاحقیقی میں آیا تھا۔جب مقاصد پورے نہ ھوئے تو خود ہی چلاگیا۔وہ جس کردار کا مالک ھے۔ضلع بھر کی اساتذہ برادری اس کے کردار سے بخوبی آگاہ ھیں۔وہ اساتذہ کے لیئے ایک ناسورھے۔ضلع مانسہرہ میں اپٹاحقیقی کی کارکردگی دیکھ کر بوکھلاہٹ کا شکار ھیں۔مانسہرہ سے شروع ہونے والی تحریک اب صوبے کے مختلف ضلعوں تک وسعت اختیار کرتی جا رہی ہے۔اپٹا میں چند مفاد پرست ٹولے نے تنظیم کو اپنی جاگیر بنا رکھا تھا جسکی وجہ سے اساتذہ میں سخت بے چینی پائی جاتی تھی۔اپٹا ملک خالد مرحوم کے منشور سے ہٹ کر صرف چند مخصوص مفاد پرستوں کی بھینٹ چڑھ گئی ہے جسکی وجہ سے اساتذہ کے مسائل میں روز بروز اضافہ ہونے لگا ہے ہر جگہ اساتذہ کو بیچا جانے لگا ہے۔ اساتذہ کے نام پر اپنے ذاتی فوائد حاصل کیئے جانے لگے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اس پر مانسہرہ کے اساتذہ نے اپٹا کو اس کی اصل حالت میں واپس لانے کے لیئے اور ملک خالد خان مرحوم کے مشن کو جاری رکھنے کے لیئے اپٹا حقیقی کی بنیاد رکھی جو اپنی بہترین پالیسیوں اور خدمت اساتذہ کی وجہ سے مانسہرہ کے اساتذہ کی نمائندہ تنظیم بن گئی۔چند شرپسند عناصر جو صرف فیس بک پر سیلفیوں کی وجہ سے جانے جاتے ہیں وہ اب اپٹا حقیقی کی مقبولیت سے بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر مختلف پروپیگنڈوں پر اتر آئے ہیں ایسے عناصر کر کردار سے مانسہرہ کی اساتذہ برادری بخوبی واقف ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں