0

آر ٹی آئی قانون نے معلومات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنا کر اداروں کو مضبوط بنایا ہے

خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن کے چیف کمشنر ساجد خان جدون اور کمشنر ریاض خان داؤدزئی نے ریجنل پو لیس آفیسر ہزارہ ڈویژن قاضی جمیل الرحمن کے دفتر میں ضلع مانسہرہ، ایبٹ آباد اور ہری پور کے تھانہ جات کے پولیس افسران سے آر ٹی آئی قانون سے متعلق آگاہی اور معلومات کی فراہمی کے حوالے سے ایک تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اظہار کیاکہ سرکاری اداروں کے پاس موجود معلومات پبلک ریکارڈ ہوتا ہے جو عوا م کو طلب کر نے پر فورا فرا ہم کیا جا نا چا ئیے۔انہوں نے مزید بتایا کہ شہریوں کو معلومات کی بروقت فراہمی ایک قانونی اور اخلاقی فرض ہے۔انہوں نے ورکشاپ کے شرکاء کو آر ٹی آئی قانون کی افادیت اور پبلک باڈی سے درکار معلومات کے حصول کے متعلق طریقہ کار کے بارے میں بریف کیااورشہریوں کی گزارشات کو مقررہ مدت میں پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اور اس سے متعلق تمام مراحل کے بارے میں تفصیلی رہنمائی بھی فراہم کی۔ تربیتی ورکشاپ سے DIG ہزارہ ڈویژن قاضی جمیل الرحمن کا کہنا تھا کہ آر ٹی آئی قانون کے نفاذ کے بعد اب تمام پبلک باڈیز کسی بھی قسم کی انفارمیشن کو شہریو ں سے نہیں چھپا سکتے۔ انہوں نے مزید اس بات کا یقین دلا یاکہ ان کے پاس موجود تمام پبلک ریکارڈ اس ایکٹ کے تحت مقررہ مدت میں فراہم کیا جا ئے گا جس سے نہ صرف ایک اچھی طرز حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے گا بلکہ عوام کو اداروں کی طرف سے جوابدہی میں بھی بہتری آئے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں